Quran Ke 6 Fazaail o Barkaat (قرآن کے فضائل و برکات)



Here are the “Quran Ke Fazaail o Barkaat (قرآن کے فضائل و برکات)”.

قرآن کے فضائل و برکات

مقدس و آخری کتاب

قرآن مجید وہ مقدس کتاب ہے جو اللہ تعالی نے اپنے رسول پاک ﷺ پر نازل فرمائی۔ اس کتاب میں 30 پا سورتیں اور 6666 آیات ہیں۔ یہ مقدس کتاب تقریباً 23 سال کے عرصہ میں نازل ہوئ۔ حضرت جبریل علیہ السلام قرآنی آیات لایا کرتے تھے۔

قرآن پاک اللہ تعالٰی کی آخری الہامی کتاب ہے قرآن پاک کے بعد قیامت تک کوئی اور کتاب نازل نہ ہو گی۔ قیامت تک پیدا ہونے والے لوگ اسی قرآن مجید سے رہنمائی حاصل کریں گے۔ جس طرح حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اُسی طرح قرآن مجید بھی آخری کتاب ہے۔



رُشد و ہدایت کا سرچشمہ

قرآن مجید بنی نوع انسان کے لیے رُشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔یہ علم و حکمت کی کتاب ہے۔ افراد و اقوام کی اصلاح کے لیے اس میں رہنما اُصول بتائے گئے ہیں۔ جن پر عمل کر کے عرب جو جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے ، انسانیت کے اعلٰی اخلاق سے آراستہ ہوئے اور اُنہوں نے قیصر و کسریٰ کو ختم کر ڈالا۔ جو لوگ اسے مذاق سمجھتے ہیں وہ کبھی سر بلند اور ہدایت یافتہ نہیں ہوں گے۔ جو لوگ فیصلہ کن کلام سمجھتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں انہیں دنیا کی کوئی طاقت گمراہ نہیں کر سکے گی اور وہ ہمیشہ دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی سے سرفراز ہوں گے۔ ارشاد ربانی (مفہوم) ہے۔

مناسب نہیں کہ کسی مومن مرد اور نہ کسی مومنہ عورت کے لیے کہ جب اللہ اور اللہ کے رسول کوئی فیصلہ کریں کوئی اختیار اپنی طرف سے اور جو شخص اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے تحقیق وہ کھلی گمراہی میں گر گیا

امن و سلامتی کاپیغام

یہ قرآن کے فضائل میں شامل ہے کہ قرآن مجید نے بنی نوع انسان کو امن و سلامتی، حریت و مساوات کا درس دیا، عربی و عجمی کا فرق ختم کیا، نسلی اور لسانی تعصبات کا خاتمہ کیا، عظمت کی بنیاد صرف تقویٰ کو قرار دیا۔ قرآن پاک نے بے لاگ انصاف کا درس دیا۔

ALSO READ:  What is Land of Prophets MCQs 16 to 20 Easy

راست بازی و دیانت داری

قرآن مجید نیکی، راست بازی، دیانت داری اور نرم گفتاری کا مبلغ ہے۔ اس نے اپنے احکام اور پیغام کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کے نزول کو چودہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن یہ کتاب ہر قسم کی رد و بدل سے محفوظ ہے۔

حفاظت کی عظمت

قرآن کے فضائل میں یہ بات بھی گواہ ہے کہ اس کی حفاظت اللہ تعالٰی نے اپنے ذمہ رکھی ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالٰی فرماتا (مفہوم) ہے۔
ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب زمانہء نزول سے لے کر اب تک محفوظ ہے اور اس میں کوئی ردو بدل نہیں ہوا۔

قرآن کے فضائل اور احادیث نبوی ﷺ

احادیث کی کتب حضور اکرم ﷺ کے ایسے ارشادات گرامی سے بھری پڑی ہیں جن میں قرآن کے فضائل مذکور ہیں ان احادیث کا مطالعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن رسول پاک ﷺ کے نزدیک افضل ترین کلام ہے۔ دنیا و مافیا سے کہیں بڑھ کر یہ اللہ تعالٰی کی نعمتِ عُظمیٰ ہے۔ یہ کتاب ہمارے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یہ کتاب دنیا و آخرت میں فلاح کی ضامن ہے۔ چند احادیث مبارکہ ذیل میں درج ہیں۔

الف۔ تم میں سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن پڑھا اور دوسروں کو اس کی تعلیم دی

ب۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو قرآن مجید نے میرا ذکر کرنے اور دعا مانگنے سے روک دیا، میں اسے دیا مانگنے والوں سے بڑھ کر نعمتوں سے نوازوں گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی کے کلام کی فضیلت باقی تمام کلاموں پر ایسی ہے جیسی اللہ تعالٰی کی فضیلت مخلوق پر ہے۔

ALSO READ:  Surat ul Ghani Kon Si Surah Hai MCQs 66 to 70 Easy

ج۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آئے تو وہ یہ دیکھے کہ اس کے ہاں تین موٹی تازی اونٹنیاں کھڑی ہیں، ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہم یہ چاہتے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا، تین آیات تم میں سے جو شخص اپنی نماز میں پڑھے یہ اس کے لیے بہتر ہے اس سے کہ وہ اپنے گھر کے دروازے پر تین اونٹنیاں پائے۔

د۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، یہ قرآن اللہ تعالٰی کی مضبوط رسی ہے، گویا آپ کا اشارہ”اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے پکڑو” کی طرف ہے۔ یہ حکیمانہ نصیحت ہے اور یہی سیدھا راستہ ہے یہ قرآن وہ چیز ہے کہ تخیل اسے غلط راستے پر نہیں لے جا سکتا اور زبانیں اس میں کسی قسم کی آمیزش نہیں کر سکتیں۔

قرآن کے فضائل
قرآن کے فضائل

Support Dars-o-Tadrees

Please remember, Dars-o-Tadrees is offering free guidance to students and meeting its expenditures through Page Views and Google Adsense. You can support Dars-o-Tadrees by spreading DarsoTadrees and its posts on your social networks like Facebook, Twitter etc to increase its Page Views. You can also donate some funds to support Dars-o-Tadrees.

Leave a Comment



Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top